A Tradition from Bibi Fatima SA

آیت اللہ حسین بخش جاڑا مرحوم
ہر شخص کے ذہن میں یہ بات سمائی ہے کہ مذہب کی حقیقت وہ ہے جس کو میں ہی سمجھتا ہوں اور غضب بالائے غضب یہ کہ بعض ایسے لوگ جن کو مذہب شیعہ کے معمولی اور چھوٹے سے چھوٹے فرعی مسئلہ کی خبر نہیں وہ بڑے بڑے مذہبی اصولی مسائل کو اپنے نزدیک بدیہی (لازمی) کہہ کر بڑے بڑے اعلام مذہب (علماء) کی تحقیرو تذلیل میں زبان کشائی کرتے نظر آتے ہیں اور طرّہ یہ کہ جن لوگوں سے دین کو حاصل کرنا تھا ان کو بے دین کہہ کر اپنی بے دینی کو دین کا نام دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
 حتی کہ جب کسی شیعہ سے آپ ملیں گے اور اس کے جذبات سنیں گے تو آپ کو ایسا لگے گا کہ پوری دنیائے شیعیّت اس کے سینہ میں سمائی ہے اور مذہبی درد سے اس کا دل بے چین ہے لیکن جب تجزیہ کر کے دیکھیں گے تو شیعیت برائے نام ملے گی اور مذہب کی حقیقت خواہشات نفس کا ایک پلندہ نظر آئے گا اور اصولا و فروعا اس کا ذہن مذہب حقیقی سے باغی ہو گا بلکہ اصول اس کے نزدیک وہی واجب التسلیم ہوں گے جن کو اس کے جذبات مقبولیت کی سند دیں گے۔ یہ تو ہے تسلیم کا معاملہ باقی وہی عمل والی بات تو سر سے پیر تک اس کے وجود میں شیعیت کا ایک نشان تک نہ ملے گا، نہ شکل میں نہ لباس میں، نہ وضع قطع میں اور نہ گفتار و کردار میں جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جس میں معروف منکر اور منکر معروف بن جائے گا۔ ایسے حالات میں جب مذہب آئمہ(ع) کی طرف اس کی رہنمائی کی جائے تو وہ فورا اپنی اصلاح کی بجائے رہنمائی کرنے والے بڑے سے بڑے عالم دین کو دین دشمنی کا خطاب دینے کی جسارت کر کے اسے اپنی دینی بیداری اور مذہب دوستی سمجھتے ہوئے فخر و مباہات کرتا نظر آتا ہے۔
اور یہ وہ زمانہ ہے کہ اہل علم کی زبانوں کو حق بیانی سے روکا جاتا ہے لیکن اعلان باطل کرنے والے باچھیں کھول کھول کر ٹرّاتے ہیں۔ اہل حق کی بات کو غلط انداز سے پیش کیا جاتا ہے اور اہل باطل کی غلط باتوں کی تاویلات کو قبول کرنے میں ذرا بھر تامل نہیں ہوتا۔ قوم کا نبّاض طبقہ قوم کی یہ زبوں حالی دیکھ کر شش و پنج میں ہے اور اہل درد اپنے اپنے مقام پر دم بخود ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ جب بدعت عام ہو جائے تو عالم کو اپنا علم ظاہر کرنا چاھئے، اگر کوئی عالم عمدا ایسا نہ کرے تو اس پر اللہ کی لعنت ہوگی۔
اس سے زیادہ اندھیر کیا ہوگا کہ چور چوری کرنے کے باوجود مالک کو کہے کہ تو چور ہے اور دیکھنے والے بیک آواز چور کی دیانت اور صداقت کی داد دیں اور مالک کو کوسنے لگ جائیں۔ خدا کی قسم یہاں دین کی یہی کیفیت ہے، وہ علمائے عاملین جنہوں نے تحصیل علوم دینیہ میں اپنے قیمتی متاع زندگی کو قربان کر دیا اور جوانی کی بہاریں اس پر نثار کر کے رکھ دیں اور علوم دینیہ کے شغف کی بدولت ہی انہیں جوانی کے پرکیف دور کو خیرباد کہنے کی توفیق عطا ہوئی، ان کا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑا ہے جو دین کے مبادی سے بھی غافل ہیں۔ انہیں نہیں پتہ کہ دین کس شئے کا نام ہے اور دین کے اصول و فروع کی حقیقت کیا ہے۔ نہ دین کہ لانے والے کی سوانح حیات کا علم اور نہ دین کے محافظین کی فرمائشات سے دلچسپی، اور بایں ہم ہمچو ما دیگرے نیست کی رٹ ہے۔ دین کے ہر مسئلہ کو مسخ کرنے کے باوجود تسلیم کا دعوی ہے۔ اصولا و عملا مذہب کے احکام کو اپنے عمل سے رد کرنے کے باوجود ان کی وکالت کا دعوی اور مصیبت بالائے مصیبت یہ کہ بے علم اپنے تئیں عالم کہلوا کر شرماتا نہیں بلکہ علماء کو شرمسار کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بدعمل اپنی بدعملی پر نادم نہیں ہوتا بلکہ عمل کرنے والوں کو چیلنج کرتا ہے اور علماء اگر زبان و قلم سے کلمۂ حق کی تبلیغ کرنے کی جرات کریں اور دین کی دہائی دیں تو دین سے اصولا و عملا جو طبقہ باغی ہو چکا ہے بلکہ علانیہ فسق وفجورجن کا معمول زندگی ہے وہ کھلے عام مجمع میں منبروں پر چلاّ چلاّ کر علمائے عاملین کا تمسخر اڑا کر اپنی مذہب پرستی کا اعلان کرتے ہیں (الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے)۔
اس زمانے کے پرسکون انتہائی مہلک و خطرناک ذہنی انقلاب نے اس ضرب المثل کو روز روشن کی طرح ایک واضح حقیقت بنا دیا چنانچہ بے دین، دین والوں کو ڈانٹ کر کہتے ہیں کہ ہم ہی دیندار ہیں اور تم دین کے دشمن ہو اور سننے والے ان کی بے دینی سے واقف ہونے کے باوجود ان کو داد دیتے ہیں اور ان کی صدا پر واہ واہ کرتے ہیں۔ آج اعلانیہ طور پر جاہل عالم کو سکھانے کے درپے ہیں۔ بے دین متدیّن (دیندار) کو دین کا درس دینے کے لئے بے تاب ہیں۔ بدعمل صاحب عمل کے لئے اصلاح کی دعوت لئے پھرتے ہیں۔ خدا کی قسم اقوام عالم میں کہیں اور کسی دور میں یہ مثال نہ ملے گی کہ جاہل نے عالم کے علم کا محاسبہ کیا ہو اور جن لوگوں کو عقیدہ کا معنی تک نہیں آتا وہ بھی ببانگ دہل کہتے ہیں کہ علماء کو عقیدہ ہم سے سیکھنا چاھئے۔
اگر ولائے آل محمد(ص) کو ایسے رنگ میں بیان کیا جائے کہ نہ تو توحید و عدل کا پس رہے نہ اعمال کے حسن و قبح میں فرق رہے اور نہ قیامت کے حساب و کتاب کی عظمت رہے تو یہ دین سے کھلی ہوئی بغاوت ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ولائے آل محمد(ص) اس انداز سے بیان ہو کہ توحید و عدل کا عقیدہ سمجھ میں آجائے اور اعمال صالحہ سے محبت پیدا ہو، اعمال بد سے توبہ کی شوق اور آئندہ ان سے نفرت کا جذبہ پیدا ہو نیز قیامت کے حساب و کتاب کا خوف دلوں پر طاری ہوتا کہ سننے والے محمد و آل محمد(ص) کی تعلیمات سے بہرہ ور ہو کر اٹھیں لیکن اس قسم کا بیان وہ لوگ ہی کر سکتے ہیں منبر کے اہل ہوں۔
Posted by: Nadir Awan <nadirawan@live.com>


Post a Comment

 
Top